سیرتِ النبی قسط نمبر 43

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 43

پہلی وحی نازل ہونے کے کئی مہینوں بعد تک کوئی اور وحی نازل نہیں ہوئی.. یہ دور فترت وحی یا انقطاع وحی کہلاتا ہے.. فترۃ وحی کی مدت میں محدثین کا اختلاف ہے.. کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال بتلائی جاتی ہے..

وحی کی اس بندش کے عرصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حزین وغمگین رہے اور آپ پر حیرت واستعجاب طاری رہا.. حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوچنے لگے کہ کہیں میرا رب مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گیا.. صحیح بخاری کتاب التعبیرکی روایت ہے کہ..

''وحی بند ہوگئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے خود کو گرا دیں لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو گرا دیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے.. "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کے رسول برحق ہیں" اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اضطراب تھم جاتا , نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے.. پھر جب آپ پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے.."

حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ (یعنی وحی کی بندش ) اس لیے تھی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو خوف طاری ہوگیا تھا وہ رخصت ہوجائے اور دوبارہ وحی کی آمد کا شوق وانتظار پیدا ہوجائے.. (فتح الباری ۱/۲۷) چنانچہ جب یہ بات حاصل ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی کی آمد کے منتظر رہنے لگے تو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوبارہ وحی سے مشرف کیا..

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان ہے کہ.. "میں نے حراء میں ایک مہینہ اعتکاف کیا.. جب میرا عتکاف پورا ہوگیا تو میں اترا.. جب بطن وادی میں پہنچا تو مجھے پکارا گیا.. میں نے دائیں دیکھا کچھ نظر نہ آیا , بائیں دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا , آگے دیکھا کچھ نظر نہ آیا , پیچھے دیکھا کچھ نظر نہ آیا.. پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو ایک چیز نظر آئی.. کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حِراء میں آیا تھا , آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے.. (اس وقت وہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہوا تھا.. حضرت جبریل علیہ السلام کو اس حالت میں دیکھ کر) میں اس سے خوف زدہ ہوکر زمین کی طرف جا جھکا (اور لرزہ طاری ہو گیا).. پھر میں نے (اسی حالت میں گھر) خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس آ کر کہا.. "مجھے چادر اوڑھا دو ___ مجھے چادر اوڑھادو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈال دو.." انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا.. اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں..

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ O قُمْ فَأَنذِرْ‌ O وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ O وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ O وَالرُّ‌جْزَ فَاهْجُرْ‌ O

"اے کپڑے میں لپٹنے والے ! اُٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور گندگی سے کنارہ کرلو اور کوئی احسان اس نیت سے نہ کرو کہ زیادہ وصول کرسکو اور اپنے پرووردگار کی خاطر صبر سے کام لو.." (المدثر:۱تا ۵)

یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے.. اس کے بعد وحی میں گرمی آگئی اور وہ متواتر نازل ہونے لگی..

(صحیح بخاری , کتاب التفسیر , تفسیر سورۂ مدثر)

یہی آیات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا نقطۂ آغاز ہیں.. سورہ علق سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت کا منصب عطا ہوا تھا اور سورہ مدثر (قُمْ فَأَنذِرْ‌) سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسالت کے مرتبہ پر فائز ہوئے.. ان آیات کا مطلع اللہ بزرگ وبرتر کی آواز میں ایک آسمانی نداء پر مشتمل ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس عظیم وجلیل کام کے لیے اٹھنے اور نیند کی چادر پوشی اور بستر کی گرمی سے نکل کر جہاد وکفاح اور سعی مشقت کے میدان میں آنے کے لیے کہا گیا ہے..

"اے چادر پوش ! اٹھ اور ڈرا " گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ جسے اپنے لیے جینا ہے وہ تو راحت کی زندگی گزار سکتا ہے لیکن آپ جو اس زبردست بوجھ کو اٹھا رہے ہیں تو آپ کو نیند سے کیا تعلق..؟ آپ کو راحت سے کیا سروکار..؟ آپ کو گرم بستر سے کیا مطلب..؟ یہ سکون زندگی سے کیا نسبت..؟ راحت بخش سازوسامان سے کیا واسطہ..؟

آپ اٹھ جایئے ! اس کار عظیم کے لیے جو آپ کا منتظر ہے.. اس بار گراں کے لیے جو آپ کی خاطر تیار ہے.. اٹھ جایئے ! جہد ومشقت کے لیے , تکان اور محنت کے لیے.. اٹھ جایئے ! کہ اب نیند اور راحت کا وقت گزر چکا.. اب آج سے پیہم بیداری ہے اور طویل اور پرمشقت جہاد ہے.. اٹھ جایئے ! اور اس کام کے لیے مستعد اور تیار ہوجایئے..

یہ بڑا عظیم اور پر ہیبت کلمہ ہے.. اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پرسکون گھر , گرم آغوش اور نرم بستر سے کھینچ کر تند طوفانوں اور تیز جھکڑوں کے درمیان اتھاہ سمندر میں اتار دیا اور لوگوں کے ضمیر اور زندگی کے حقائق کی کشاکش کے منجدھار میں لاکھڑا کیا..

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم___ اٹھ گئے اور بیس سال سے زیادہ عرصہ تک اٹھے رہے.. راحت وسکون تج دیا.. زندگی اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے نہ رہی.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے تو اٹھے ہی رہے.. کام اللہ کی دعوت دینا تھا , آپ نے یہ کمر توڑ بارگراں اپنے شانے پر کسی دباؤ کے بغیر اٹھا لیا.. یہ بوجھ تھا اس روئے زمین پر امانت کبریٰ کا بوجھ , ساری انسانیت کا بوجھ , سارے عقیدے کا بوجھ اور مختلف میدانوں میں جہاد ودفاع کا بوجھ !!

اس پورے عرصے میں یعنی جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ آسمانی ندائے جلیل سنی اور یہ گراں بار ذمہ داری پائی , آپ نے پیہم اور ہمہ گیر معرکہ آرائی میں زندگی بسر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ایک حالت دوسری حالت سے غافل نہ کرسکی.. اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری طرف سے اور ساری انسانیت کی طرف سے بہترین جزا دے.. آمین..

( جاری ہے )

ریفرنس بُکس :-

سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی
تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ)
سیرت ابن ھشام