Showing posts with label makkah. Show all posts

سیرتِ النبی قسط (16)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 17

تذکرۂ خانوادۂ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. (حصہ اول)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خانوادہ اپنے جد اعلیٰ "ہاشم بن عبد مناف" کی
نسبت سے خانوادۂ ہاشمی کے نام سے معروف ہے.. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خانوادۂ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض نام ور افراد کے مختصر حالات پیش کر دیے جائیں..

1 - قصی بن کلاب..

قصی بن کلاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ پشت پہلے کے بزرگ ھیں..
دراصل یہ ھی قصی بن کلاب ھیں جنہوں نے نہ صرف بنو خزاعہ سے خانہ کعبہ
کی تولیت کا حق واپس لیا بلکہ اپنی قوم بنی اسماعیل اور قبیلے بنی قریش کو
منظم و متحد کرکے مکہ کو ایک باقائدہ ریاستی شھر کی شکل دی.. خانہ کعبہ کی
تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ سے قصی بن کلاب اور ان کی آل اولاد
کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی سیادت اور
عزت و احترام کا درجہ حاصل ھوگیا اور قصی بن کلاب نے خود کو اس کا
اھل ثابت بھی کیا..

قصی بن کلاب کو بلامبالغہ مکہ کی شھری ریاست کا مطلق العنان بادشاہ کا درجہ
حاصل تھا.. انہوں نے نہ صرف خانہ کعبہ گرا کر نئے سرے سے اس کی تعمیر
کرائی بلکہ پہلی دفعہ اس پر کجھور کے پتوں سے چھت بھی ڈالی.. اس کے علاوہ
خانہ کعبہ کے جملہ انتظام کا جائزہ لے کر اس میں ضروری اصلاحات بھی کیں..

دوسری طرف خانہ کعبہ کے پاس ھی ایک عمارت تعمیر کرائی جسے "دارالندوہ"
کا نام دیا گیا.. یہاں بنو اسماعیل اور مکہ کے دوسرے قبائل کے سرداروں اور
عمائدین کے ساتھ ملکر مختلف امور کے متعلق بحث و تمحیث کے بعد فیصلے کیے
جاتے.. قریش جب کوئی جلسہ یا جنگ کی تیاری کرتے تو اسی عمارت میں کرتے..
قافلے یہیں سے تیار ھو کر باھر جاتے.. نکاح اور دیگر تقریبات کے مراسم بھی
یہیں ادا ھوتے.. اس کے علاوہ مختلف ریاستی امور نبٹانے کے لیے چھ مختلف
شعبے قائم کیے اور ان کا انتظام اپنے بیٹوں میں تقسیم کردیا جسے ان کی وفات
کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس
شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا..

2 - حضرت ھاشم بن عبد مناف..

حضرت ھاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے.. جب عبد مناف اور
بنو عبد الدار کے درمیان عہدوں کی تقسیم پر مصالحت ہوگئی تو عبدمناف کی اولاد
میں حضرت ہاشم ہی کو سِقَایہ اور رِفادہ یعنی حجاج کرام کو پانی پلانے اور
ان کی میزبانی کرنے کا منصب حاصل ہوا.. حضرت ہاشم بڑے مالدار اور نہایت
ھی جلیل القدر بزرگ تھے.. ان کا اصل نام عمرو تھا.. چونکہ ان کے زمہ حاجیوں
کے کھانے پینے کا انتظام بھی تھا تو وہ ان زائرین کی تواضع ایک خاص قسم
کے عربی کھانے سے کرتے جسے "ھشم" کہا جاتا تھا..
(عربی زبان میں ھشم شوربہ میں روٹیاں چورا کرنے کو کہتے ھیں..)
مکہ میں ایک سال قحط پڑا تو انہوں نے تمام اھل مکہ کے لیے یہی شوربہ تیار
کرایا جس پر انہیں "ھاشم" کا لقب ملا اور تاریخ نے پھر انہیں اسی لقب سے یاد رکھا..

ان کی اولاد قریش کے معزز ترین قبیلہ بنو ھاشم کے نام سے مشھور ھے.. انہوں
نے قریش کے تجارتی قافلے شروع کروائے اور ان کے لیے بازنطینی سلطنت کے
ساتھ معاہدے کیے جن کے تحت قریش بازنطینی سلطنت کے تحت آنے والے ممالک
میں بغیر محصول ادا کیے تجارت کر سکتے تھے اور تجارتی قافلے لے جا سکتے
تھے.. یہی معاہدے وہ حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ بھی کرنے میں کامیاب ھوئے جس کا
تمام قریش کو بے انتہا فائدہ ھوا اور ان کے قافلے شام , حبشہ , ترکی اور یمن میں جانے لگے..

ایک بار تجارت کی غرض سے شام گئے.. دوران سفر یثرب
(جس کا نام بعد میں مدینہ یا مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ھوا..) میں ٹھہرے.. وھاں
قبیلہ بنی نجار کی ایک خاتون "سَلْمیٰ بنت عَمْرو" سے شادی کرلی اور کچھ دن وہیں
ٹھہرے رہے.. پھر بیوی کو حالتِ حمل میں میکے ہی میں چھوڑ کر ملک شام روانہ
ہوگئے.. غالبا" ان کا ارادہ تھا کہ واپسی پر ان کو مدینہ سے مکہ لے جائیں گے مگر
شادی سے چند ماہ بعد دوران سفر ھی ان کا انتقال فلسطین کے علاقے غزہ میں ھو گیا..

( جاری ہے )

سیرت النبی قسط (15)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 15

پچھلی 2 اقساط میں عربوں کے معاشی اور معاشرتی حالات بیان کیے گئے ،
اس قسط میں مختصرا" اس دور کے سیاسی حالات بیان کیے جارھے ھیں -

ظہور اسلام سے پہلے عرب قبائلی نظام میں تقسیم تھے اور سرزمین عرب کے
ریگستانوں میں دانہ ھاۓ تسبیح کی طرح بکھرے ھوۓ تھے.. قبائل کا سیاسی نظام
نیم جمہوری تھا.. قبیلہ کا ایک سردار مقرر ھوتا جس کی شجاعت , قابلیت اور
فہم و فراست کے علاوہ سابقہ سردار سے قرابت داری کا بھی لحاظ رکھا جاتا..
تمام لوگ اپنے سردار کی اطاعت کرتے تاھم سردار قبیلہ کے بااثر لوگوں سے
صلاح مشورہ بھی کرلیتا..

عرب قوم کیونکہ اکھڑ مزاج قوم تھی تو بعض اوقات کسی معمولی سی بات پر اگر
دو مختلف قبیلے کے افراد میں جھگڑا ھوجاتا تو اسے پورے قبیلے کی انا کا مسلہ
بنا لیا جاتا اور پھر مخالف قبیلے کے خلاف اعلان جنگ کردیا جاتا.. بسا اوقات یہ
جنگیں مدتوں جاری رھتیں.. مثلا" بنو تغلب اور بنو بکر میں بسوس نامی ایک اونٹنی
کو مار ڈالنے پر جنگ کا آغاز ھوا اور یہ جنگ پھر چالیس برس جاری رھی..

جب ھم جزیرہ نما عرب کے اطراف پر نظر ڈالتے ھیں تو ایک طرف روم کی عظیم
بازنطینی سلطنت اور دوسری طرف ایران کی عظیم ساسانی سلطنت نظر آتی ھیں..
جزیرہ نما عرب کو ایک لحاظ سے ان دو عظیم ھمسایہ حکومتوں کے درمیان ایک
بفر سٹیٹ کا درجہ حاصل تھا.. اھل عرب ان دو ھمسایہ سلطنتوں کو " اسدین غالب"
(دو طاقتور غالب شیر) کہا کرتے تھے..

اس وقت یہ دنیا کی دو سب سے طاقتور ترین اقوام تھیں جو کئی صدیوں سے آپس
میں بسر پیکار تھیں.. کبھی رومی ایرانیوں کو پامال کرتے ھوۓ شکست فاش سے دو
چار کردیتے اور کبھی میدان جنگ میں ایرانیوں کی فتح کے طبل بجتے..

روم کی بازنطینی سلطنت کا حکمران "قیصر" کے لقب سے حکومت کرتا جبکہ
ایران کی ساسانی سلطنت کا حکمران "کسری' " کہلاتے.. آپ ﷺ کے دور میں روم پر
قیصر "ھرقل" کی حکومت تھی جبکہ ایران پر آپ ﷺ کے بچپن میں مشھور ایرانی
بادشاہ "نوشیرواں" کی حکومت تھی جبکہ اس کے بعد "خسرو پرویز" ایران کا شہنشاہ
بنا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تبلیغی خط کو پھاڑنے کی گستاخی کی تھی..

یہاں میں عربوں کی تاریخ اور آپﷺ کی ولادت مبارکہ کے وقت سرزمین عرب کے
عمومی حالات کا سلسلہ تمام کرتا ھوں.. ان شاء اللہ اگلی قسط سے سیرت نبوی ﷺ
کا باقاعدہ آغاز ھوگا..

( جاری ہے )

سیرتِ النبی قسط(14)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 13

پچھلی دو اقساط میں عربوں میں بت پرستی کی تاریخ اور ولادت نبی پاک ﷺ  کے وقت
سرزمین عرب اور خصوصا" مکہ و مدینہ میں رائج مختلف ادیان اور عقائد کا جائزہ لیا گیا.
اس قسط میں ظہور اسلام کے وقت عربوں اور خصوصا" قریش مکہ کے معاشی اور معاشرتی
حالات بیان کیے جائیں گے.

ظہور اسلام کے وقت اگر عرب معاشرے کا ایک سرسری سا جائزہ بھی لیا جاۓ تو ایک بات
شدت سے محسوس ھوتی ھے کہ تب کا عرب معاشرہ ایک ھی وقت میں اچھی بری متضاد خصلتوں
کا شکار تھا.. اور اس سے بھی اھم بات یہ کہ اچھی بری یہ متضاد خصلتیں اپنی پوری شدت سے
ان میں سرائیت پذیر تھیں.. ایسے میں اگر ھم ان میں رائج بد عادات و رسوم و رواج کو مدنظر
رکھیں تو عرب معاشرہ ایک بدترین معاشرے کی تصویر پیش کرتا ھے..

اور اگر ھم عربوں کے اوصاف حمیدہ کو سامنے رکھیں تو درحقیقت ان سی بہتر انسانی معاشرہ اور
معاشرتی اقدار کی نظیر ملنا مشکل ھے..

بنیادی طور پر عرب معاشرہ تین طبقات پر مشتمل تھا..

1 -  حضری

وہ لوگ جو شھروں میں آباد تھے اور مستقل طور پر شھروں میں ھی سکونت پذیر تھے.. ان کی
تعداد بہت تھوڑی تھی.. حضری عربوں کا ذریعہ آمدنی نخلستانوں کی آمدن اور تجارت تھا..
درخقیقت یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پردادا حضرت ھاشم تھے جنہوں نے
روم و ایران اور شام و ھندستان کے حکمرانوں کے ساتھ تجارتی معاھدات کیے.. اس طرح عرب
لوگ بڑے بڑے قافلوں کی صورت میں ان ممالک جاتے اور وھاں سے قافلے عرب آتے.. قریش
کہ کو کیونکہ خانہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے مرکزی اھمیت حاصل تھی اس لیے قریش مکہ
کے قافلوں کو عرب کے بدوی قبائل لوٹنے سے بھی گریز کرتے..

2 : بدوی

عرب کی اکثر آبادی بدوی قبائل پر مشتمل تھی جو خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتی تھی.. ان کا
اصل ذریعہ معاش گلہ بانی یعنی جانور پالنا تھا.. اس لیے جہاں کہیں چراگاہ نظر آتی وھیں ڈیرے
ڈال دیئے جاتے تھے.. جب اس چراگاہ میں ان کے جانوروں کی خوراک ختم ھوجاتی تو وھاں سے
کسی اور جگہ کا رخ کرتے.. اس کے علاوہ رھزنی بھی انکی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تھا.. یہ لوگ
عرب کے صحراؤں میں آتے جاتے قافلوں کو لوٹ لیتے.. جو قبائل ڈاکہ کے ذریعے روزی کماتے تھے
وہ اس پر بہت فخر کیا کرتے تھے..

3 : لونڈی اور غلام

معاشرے کا تیسرا اور سب سے نچلا طبقہ لونڈیوں اور غلاموں کا تھا جو حضری و بدوی عربوں کے
ساتھ خادم کی حیثیت سے رھتے تھے.. غلاموں میں عرب اور غیر عرب دونوں شامل تھے.. عرب تو
قبائل کی آپس کی جنگ میں مغلوب ھونے یا پھر مقروض ھونے کی وجہ سے لونڈی اور غلام بنا لیے
جاتے جبکہ غیر عرب بکتے بکاتے سرزمین عرب پہنچتے جہاں باقائدہ منڈیوں اور بازاروں میں انکی
خرید و فروخت ھوتی تھی.. مالک کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے غلام پر جسطرح چاھے ظلم ڈھاۓ
اور چاھے تو اسے جان سے ھی مار ڈالے.. معمولی معمولی باتوں پر غلاموں کو اتنی سخت سزائیں دی
جاتیں کہ انسانیت کی روح بھی کانپ اٹھتی.. غلام کا بیٹا بھی پیدائشی غلام ھوتا تھا.. اسی طرح لونڈیاں
بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنتی تھیں.. اور ان سے بدکاری کا پیشہ بھی کرایا جاتا تھا.. ناچ گانے جاننے
والی لونڈیوں کی قیمتیں نسبتا" زیادہ ھوتی تھیں.. غرضیکہ غلاموں اور لونڈیوں کی جان و مال '
عزت و آبرو اور اولاد سب کی سب انکے آقا کی ھی ملکیت ھوتی تھی..

عرب معاشرے میں جنگ و جدل کا سلسلہ مسلسل جاری رھتا مگر اس جنگ و جدل ' مسلسل خانہ جنگی
اور صدیوں تک جاری رھنے والے باھمی بغض و عناد اور تعصب و عداوت کے باوجود عرب ایک
مشترکہ ثقافت رکھتے تھے.. جس کے بنیادی عناصر میں اپنے آباء و اجداد پر فخر کرنا ' انکی روایات
کو برقرار رکھنا اور مشترکہ زبان عربی کو گنوایا جاسکتا ھے.. عرب نسلی طور پر قحطانی اور عدنانی
(بنو اسمائیل) دو گروھوں میں بٹے ھوتے تھے لیکن دونوں کو عربی زبان پر فخر تھا.. شعرو شاعری
بچے بچے کی زبان پر تھی اور شعری ذوق اور عرب ثقافت کا بھرپور اظہار طائف کے قریب "عکاظ"
کے مقام پر ھر سال لگنے والے میلہ میں کیا جاتا.. عام حالات میں ایک عرب جنگجو سپاھی تھا مگر
اس میلے میں وہ بھی ایک شاعر کا روپ دھار لیتا.. شراب خوری کی مجلسیں سجائی جاتیں اور گردش
جام کے ساتھ ایسی بلند پایہ غزلیں کہی جاتیں کہ آج تک اس دور کے ادب کو کلاسیکی مانا جاتا ھے.
فاحشہ عورتوں کی موجودگی نے ان مجالس کو بے ھودگی کی انتہائی پستیوں تک پہنچا دیا تھا..

ر

سیرتِ النبی قسط (13)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 13

پچھلی دو اقساط میں عربوں میں بت پرستی کی تاریخ اور ولادت نبی پاک ﷺ  کے وقت
سرزمین عرب اور خصوصا" مکہ و مدینہ میں رائج مختلف ادیان اور عقائد کا جائزہ لیا گیا.
اس قسط میں ظہور اسلام کے وقت عربوں اور خصوصا" قریش مکہ کے معاشی اور معاشرتی
حالات بیان کیے جائیں گے.

ظہور اسلام کے وقت اگر عرب معاشرے کا ایک سرسری سا جائزہ بھی لیا جاۓ تو ایک بات
شدت سے محسوس ھوتی ھے کہ تب کا عرب معاشرہ ایک ھی وقت میں اچھی بری متضاد خصلتوں
کا شکار تھا.. اور اس سے بھی اھم بات یہ کہ اچھی بری یہ متضاد خصلتیں اپنی پوری شدت سے
ان میں سرائیت پذیر تھیں.. ایسے میں اگر ھم ان میں رائج بد عادات و رسوم و رواج کو مدنظر
رکھیں تو عرب معاشرہ ایک بدترین معاشرے کی تصویر پیش کرتا ھے..

اور اگر ھم عربوں کے اوصاف حمیدہ کو سامنے رکھیں تو درحقیقت ان سی بہتر انسانی معاشرہ اور
معاشرتی اقدار کی نظیر ملنا مشکل ھے..

بنیادی طور پر عرب معاشرہ تین طبقات پر مشتمل تھا..

1 -  حضری

وہ لوگ جو شھروں میں آباد تھے اور مستقل طور پر شھروں میں ھی سکونت پذیر تھے.. ان کی
تعداد بہت تھوڑی تھی.. حضری عربوں کا ذریعہ آمدنی نخلستانوں کی آمدن اور تجارت تھا..
درخقیقت یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے پردادا حضرت ھاشم تھے جنہوں نے
روم و ایران اور شام و ھندستان کے حکمرانوں کے ساتھ تجارتی معاھدات کیے.. اس طرح عرب
لوگ بڑے بڑے قافلوں کی صورت میں ان ممالک جاتے اور وھاں سے قافلے عرب آتے.. قریش
کہ کو کیونکہ خانہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے مرکزی اھمیت حاصل تھی اس لیے قریش مکہ
کے قافلوں کو عرب کے بدوی قبائل لوٹنے سے بھی گریز کرتے..

2 : بدوی

عرب کی اکثر آبادی بدوی قبائل پر مشتمل تھی جو خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتی تھی.. ان کا
اصل ذریعہ معاش گلہ بانی یعنی جانور پالنا تھا.. اس لیے جہاں کہیں چراگاہ نظر آتی وھیں ڈیرے
ڈال دیئے جاتے تھے.. جب اس چراگاہ میں ان کے جانوروں کی خوراک ختم ھوجاتی تو وھاں سے
کسی اور جگہ کا رخ کرتے.. اس کے علاوہ رھزنی بھی انکی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تھا.. یہ لوگ
عرب کے صحراؤں میں آتے جاتے قافلوں کو لوٹ لیتے.. جو قبائل ڈاکہ کے ذریعے روزی کماتے تھے
وہ اس پر بہت فخر کیا کرتے تھے..

3 : لونڈی اور غلام

معاشرے کا تیسرا اور سب سے نچلا طبقہ لونڈیوں اور غلاموں کا تھا جو حضری و بدوی عربوں کے
ساتھ خادم کی حیثیت سے رھتے تھے.. غلاموں میں عرب اور غیر عرب دونوں شامل تھے.. عرب تو
قبائل کی آپس کی جنگ میں مغلوب ھونے یا پھر مقروض ھونے کی وجہ سے لونڈی اور غلام بنا لیے
جاتے جبکہ غیر عرب بکتے بکاتے سرزمین عرب پہنچتے جہاں باقائدہ منڈیوں اور بازاروں میں انکی
خرید و فروخت ھوتی تھی.. مالک کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے غلام پر جسطرح چاھے ظلم ڈھاۓ
اور چاھے تو اسے جان سے ھی مار ڈالے.. معمولی معمولی باتوں پر غلاموں کو اتنی سخت سزائیں دی
جاتیں کہ انسانیت کی روح بھی کانپ اٹھتی.. غلام کا بیٹا بھی پیدائشی غلام ھوتا تھا.. اسی طرح لونڈیاں
بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنتی تھیں.. اور ان سے بدکاری کا پیشہ بھی کرایا جاتا تھا.. ناچ گانے جاننے
والی لونڈیوں کی قیمتیں نسبتا" زیادہ ھوتی تھیں.. غرضیکہ غلاموں اور لونڈیوں کی جان و مال '
عزت و آبرو اور اولاد سب کی سب انکے آقا کی ھی ملکیت ھوتی تھی..

عرب معاشرے میں جنگ و جدل کا سلسلہ مسلسل جاری رھتا مگر اس جنگ و جدل ' مسلسل خانہ جنگی
اور صدیوں تک جاری رھنے والے باھمی بغض و عناد اور تعصب و عداوت کے باوجود عرب ایک
مشترکہ ثقافت رکھتے تھے.. جس کے بنیادی عناصر میں اپنے آباء و اجداد پر فخر کرنا ' انکی روایات
کو برقرار رکھنا اور مشترکہ زبان عربی کو گنوایا جاسکتا ھے.. عرب نسلی طور پر قحطانی اور عدنانی
(بنو اسمائیل) دو گروھوں میں بٹے ھوتے تھے لیکن دونوں کو عربی زبان پر فخر تھا.. شعرو شاعری
بچے بچے کی زبان پر تھی اور شعری ذوق اور عرب ثقافت کا بھرپور اظہار طائف کے قریب "عکاظ"
کے مقام پر ھر سال لگنے والے میلہ میں کیا جاتا.. عام حالات میں ایک عرب جنگجو سپاھی تھا مگر
اس میلے میں وہ بھی ایک شاعر کا روپ دھار لیتا.. شراب خوری کی مجلسیں سجائی جاتیں اور گردش
جام کے ساتھ ایسی بلند پایہ غزلیں کہی جاتیں کہ آج تک اس دور کے ادب کو کلاسیکی مانا جاتا ھے.
فاحشہ عورتوں کی موجودگی نے ان مجالس کو بے ھودگی کی انتہائی پستیوں تک پہنچا دیا تھا..

ر

سیرتِ النبی قسط (12)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 12

سابقہ اقساط میں مشرکین حجاز و عرب کے عقائد اور بت پرستی کی تاریخ اور
مذھب یہودیت و عیسائیت کا تذکرہ کیا گیا.. اس قسط میں ھم آپ ﷺ کی ولادت
مبارکہ کے وقت سرزمین عرب میں موجود باقی مذاھب اور ادیان کا ایک مختصر
جائزہ پیش کریں گے ۔

تش پرست..

ایران و عراق کی سرحد کے پاس آباد عرب قبائل ایرانیوں کے مذھب آتش پرستی
سے بہت متاثر ھوۓ.. اھل ایران کی طرح یہ بھی نیکی اور بدی کے دو الگ الگ
خداؤں کے قائل تھے اور اھل ایران کی طرح آگ کو خدا کا ظہور مانتے اور اس
کی پوجا کرتے تھے ۔

صائبی..

عرب جاھلیت ایسے لوگ بھی تھے جن میں ستارہ پرستی کا چرچا تھا اور یہ ستاروں
کی پوجا کرتے تھے.. غالبا" ان کا مذھب وادی دجلہ و فرات کی قدیم تہذیبوں کی باقیات
میں سے تھا.. ان کا دعو'ی تھا کہ ان کا مذھب الہامی مذھب ھے اور وہ حضرت شیث
علیہ سلام اور حضرت ادریس علیہ سلام کے پیروکار ھیں.. ان کے ھاں سات وقت کی
نماز اور ایک قمری مہینہ کے روزے بھی تھے.. ان کو مشرک عرب معاشرہ صابی
یعنی بے دین کہہ کر پکارتا تھا.. یمن کا مشھور قبیلہ "حمیر" سورج کی پوجا کرتا تھا..
قبیلہ اسد سیارہ عطارد کی اور قبیلہ لحم و جزام سیارہ مشتری کو دیوتا مان کر پوجتے
تھے.. بعض لوگ قطبی ستارہ کے پجاری تھے اور قطب شمالی کی طرف منہ کرکے
عبادت کرتے تھے.. یہ لوگ خانہ کعبہ کی بھی بہت تکریم کرتے تھے..

دھریت..

ان تمام مذاھب کے ساتھ ساتھ عرب میں ایسے لوگ بھی پاۓ جاتے تھے جو سرے سے
مذھب اور خدا پر یقین ھی نہ رکھتے تھے.. یہ نہ بت پرست تھے اور نہ کسی الہامی
مذھب کے قائل تھے.. ان کے نزدیک خدا , حشر و نشر , جنت دوزخ اور جزا سزا کا
کوئی وجود نہ تھا.. یہ دنیا کو ازلی و ابدی قرار دیتے تھے..

سلک توحید کے علم بردار..

عرب معاشرہ میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اپنی فطرت سلیم اور قلبی
بصیرت کی بدولت توحید خالص تک پہنچنے میں کامیاب ھوگئے تھے.. یہ لوگ ایک
خدا کے قائل تھے اور شرک و بت پرستی سے نفرت کرتے تھے.. ان میں حضرت
خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل , حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ کے سگے چچا زید بن عمر بن نفیل اور عبیداللہ بن حجش مشھور ھیں..
دین حق کی تلاش میں سرگرداں ان لوگوں میں سے ورقہ بن نوفل بلآخر عیسائی ھوگئے
یہ وھی ورقہ بن نوفل ھیں جنہوں نے آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ھونے پر آپ کی
نبوت کی تصدیق کی تھی.. عبیداللہ بن حجش اسلام کے بعد مسلمان ھوگئے لیکن حبشہ
ھجرت کی تو وھاں بدقسمتی سے مرتد ھوکر عیسائی ھوگئے جبکہ ان میں زید بن عمر
بن نفیل کو بہت اونچا مقام حاصل ھے.. حالاں کہ ان کو اسلام نصیب نہیں ھوا کیونکہ
وہ پہلے ھی وفات پاگئے تھے لیکن ان کی فضیلت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ کے
مفہوم سے لگایا جاسکتا ھے کہ جب قیامت کے دن ھر امت اپنے نبی کی قیادت میں
اٹھاۓ جائی گی تو زید بن عمر بن نفیل اکیلے ایک امت کے طور پر اٹھاۓ جائیں گے..

زید بن عمر بن نفیل نے بت پرستی , مردار خوری , خون ریزی اور دیگر تمام
معاشرتی خباثتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اور جب ان سے ان کے مذھب کے
متعلق پوچھا جاتا تو  آپ جواب دیتے کہ

" اعبد رب ابراھیم " میں ابراھیم کے رب کی پرستش کرتا ھوں..

آپ بت پرستی سے سخت بیزار تھے اور خانہ کعبہ میں بیٹھ کر قریش کو کہتے کہ
میرے سوا تم میں ایک بھی شخص دین ابراھیمی پر نہیں ھے.. آپ قوم کو بت پرستی
سے منع  کرتے رھتے تھے..

گو عرب میں ھر قسم کے دین موجود تھے مگر ان کی اصلی صورت اتنی مسخ
ھوچکی تھی کہ کفر و شرک اور دین میں امتیاز کرنا مشکل ھوچکا تھا.. توحید جو ھر
الہامی مذھب  کا خاصہ تھا اس کا کسی مذھب میں کہیں نام و نشان تک نہ تھا اور کفر
و شرک و توھم پرستی کا اندھیرا صرف عرب ھی نہیں تمام معلوم دنیا پر چھایا ھوا تھا..
غرض تمام ھی  دنیا ضلالت و گمراھی کی دلدل میں غرق ھوچکی تھی..

تب خداۓ بزرگ و برتر کو اھل زمیں کی اس پستی و زبوں حالی پر رحم آیا اور
اس نے ان میں اپنا عظیم تر پیغمبر مبعوث فرمایا..

( جاری ہے )

سیرتِ النبی قسط (11)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 11

پچھلی اقساط میں مشرکین حجاز و عرب کے عقائد اور بت پرستی کی تاریخ بیان
کی گئی.. اس قسط میں ھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت
سرزمین عرب میں موجود دوسرے مذاھب اور ادیان کا ایک مختصر جائزہ پیش کریں گے..

یہودیت..

عرب میں بت پرستی کے بعد دوسرا اھم ترین مذھب یہودیت تھا.. یہ لوگ دو وجہ سے
سرزمین میں آباد ھوۓ.. ایک تو اس لیے کہ حضرت عیسی' علیہ سلام کی پیدائش سے
پانچ سو سال پہلے جب بابل کے بادشاہ "بخت نزار" نے فلسطین کو تاراج کیا اور تباہ و برباد
کیا تو یہودیوں کے بہت سے قبائل جان بچاکر دنیا کے کئی دوسرے حصوں کی طرف بھاگے.
انہی میں سے چند قبائل عرب کی طرف آ نکلے اور خود کو یہاں محفوظ جان کر آباد ھوگئے..

دوسری بہت اھم وجہ یہ تھی کہ یہودیوں کو تورات و زبور کی پیش گوئیوں کی وجہ سے
علم تھا کہ اللہ عنقریب اپنا آخری پیغمبر سرزمین عرب میں مبعوث فرمانے والا ھے.. یہ
اس نبی کو اپنا نجات دھندہ جانتے تھے اس لیے یہ لوگ آخری نبی کے انتظار میں یہاں آ کر
آباد ھوگئے.. چونکہ حضرت ابراھیم علیہ سلام سے لیکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک
جتنے بھی نبی آۓ سب بنی اسرائیل میں سے ھی مبعوث ھوۓ تھے تو اس بناء پر ان کا خیال
تھا کہ آخری نبی بھی بنی اسرائیل سے ھی ھوگا مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
نبوت ملی تو اس بات کے باوجود کہ تورات و زبور اور دوسرے الہامی صحائف میں آخری
نبی کی جو نشانیاں بتائی گئی تھیں سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کھلم کھلا نظر
آ گئیں مگر عرب کے یہود نے محض اس حسد اور تعصب پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
بنی اسرائیل کے بجاۓ بنی اسمائیل میں سے تھے , آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی ماننے
انکار کردیا..

سب سے پہلے یہ لوگ یثرب (مدینہ) اور خیبر کے علاقہ میں آباد ھوۓ.. ان کے اثر سے
کچھ مقامی افراد نے بھی یہودیت اختیار کرلی.. پھر 354 قبل مسیح میں یثرب سے دو
یہودی مبلغ یمن پہنچے تو ان کے اثر سے یمن کے حمیری بادشاہ "یوسف ذونواس" نے
جب یہودی مذھب قبول کرلیا تو یمن میں یہودیت کو بہت فروغ ملا..

یہ لوگ اپنے علم اور دولت کی وجہ سے خود کو عربوں سے بہت برتر خیال کرتے تھے
اور عربوں کو اپنے مقابلے میں "امی" یعنی جاھل سمجھتے تھے.. نسلی برتری کا شکار
یہ متعصب قوم خود کو خدا کا چہیتا اور برگزیدہ تصور کرتی تھی.. ان کا خیال تھا کہ
جہنم کی آگ ان کو چند دن سے زیادہ نہیں چھوۓ گی.. حالاں کہ یہ لوگ اپنے تمام تر اوصاف کھوچکے تھے.. سودخوری ان کا شعار بن چکی تھی.. حسب ضرورت تورات اور مذھبی
احکام میں تحریف کرنا ان کے ھاں عام تھا.. مذھب گویا ان کے گھر کی لونڈی جیسا تھا جس
کے ساتھ وہ جو چاھیں کریں.. چونکہ خود کو تمام اقوام سے برتر جانتے تھے تو ان سے ھر
قسم کا دجل و فریب اور ظلم جائز تھا تاھم اپنی پوری دنیا پرستی کے باوجود مدینہ اور اردگرد
کے علاقے میں ان کو الہیات اور خدائی علوم میں اجارہ داری حاصل تھی.. ان کے اثر کا
اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ مدینہ کے قبائل اوس و خزرج میں کسی کی اولاد نہ
ھوتی تو وہ منت مانتا کہ بیٹا ھونے کی صورت میں اسے یہودی بنادیں گے..

عیسائیت..

عربوں میں تیسرا اھم مذھب عیسائیت تھا.. حضرت عیسی علیہ سلام سے کم و بیش 250
سال بعد روم کی عیسائی حکومت کے زیراثر شام کی طرف کے عرب قبائل نے عیسائیت
قبول کرلی.. دوسری طرف حیرہ کے عرب بادشاہ "نعمان بن منذر" نے دین عیسوی قبول
کیا تو وھاں کے بہت سے لوگ عیسائی ھوگئے جبکہ یمن میں جب عیسائی مبلغین کی تبلیغ پر
کچھ لوگ عیسائی ھوۓ تو یہودی بادشاہ "یوسف ذونواس" نے ان پر بے پناہ ظلم و ستم کیا اور
پھر قتل کرادیا.. روم کی عیسائی حکومت تک جب یہ خبر پہنچی تو قیصر روم بہت غصبناک
ھوا.. اس نے شاہ حبشہ کو جو رومی حلقہ اثر میں ایک عیسائی حکمران تھا , حکم دیا کہ
یوسف ذونواس سے اس ظلم و ستم کا بدلہ لیا جاۓ چنانچہ وھاں سے ایک حبشی نژاد لشکر
آیا اور یوسف ذونواس کو شکست دیکر یمن پر بھی عیسائی حکومت قائم کردی..

"ابرھہ بن اشرم" اسی لشکر کا ایک فوجی سردار تھا جو بتدریج ترقی کرکے بالآخر یمن کا
نیم خودمختار بادشاہ بن بیٹھا.. یہ کٹر عیسائی تھا اور اس نے یمن میں عیسائیت کے فروغ کے
لیے بے پناہ کام کیا.. یاد رھے کہ یہ وھی ابرھہ ھے جس نے "صنعاء" میں کعبہ کے مقابلے
پر ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا اور پھر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادہ سے
مکہ پر حملہ آور ھوا تھا.. (اس واقعہ کی تفصیل قسط نمبر 6 اور 7 میں گزر چکی ھے..)

اس زمانے کے عیسائی حضرت عیسی' علیہ سلام کی تعلیمات کے بجاۓ "سینٹ پال" کے
مذھب کے پیرو ھو چکے تھے.. سینٹ پال پہلے یہودی تھا.. اس نے دعو'ی کیا کہ اسے
حضرت عیسی' علیہ سلام نے خواب میں حکم دیا ھے کہ میرا دین پھیلاؤ.. یوں وہ عیسائی
ھوا اور پھر اس نے بتدریج عیسائیت کو ایک الہامی مذھب سے شرک و گمراھی سے لتھڑا
ھوا مذھب بنا دیا.. اس نے عیسائیت میں عقید تثلیث یعنی تین خداؤں کا عقیدہ شامل کیا..
حضرت عیسی' علیہ سلام کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا.. اس نے عیسائیوں کو اس فریب میں مبتلا
کردیا کہ حضرت عیسی' علیہ سلام سولی چڑھ کر سب عیسائیوں کے گناھوں کا کفارہ ادا
کرگئے ھیں اور اب انہیں گناہ کی کھلی چھٹی ھے.. سینٹ پال کے زیر اثر عیسائی صرف
پادری کے سامنے اعتراف جرم و گناہ کو ھی کافی سمجھتے.. تاھم یہود کے مقابلے میں
ان کی اخلاقی حالت قدرے بہتر تھی اور قبول حق کی صلاحیت سے بھی یہ لوگ بہرہ ور
تھے.. اس بات کا اندازہ آج بھی کیا جاسکتا ھے کہ آج بھی اسلام کی حقانیت جان کر
مسلمان ھونے والوں میں یہودیوں کے مقابلے میں عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ ھے..

( جاری ہے )

Disqus Shortname

designcart