سیرت النبی قسط (9)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 9

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت عربوں اور خصوصا"
مشرکین مکہ میں جن بتوں کو بہت اھم جانا جاتا تھا ان کی تفصیل درج ذیل ھے..

ھبل..

یہ مشرکین مکہ کے سب سے اھم ترین بتوں میں سے ایک تھا.. دراصل
یہ اھل شام کا دیوتا "بعل" تھا جس کے معنی "طاقتور" کے ھیں اور جسے
عربوں نے (بعل کی تحریف شدہ شکل) ھبل کا نام دیا.. یہ بت قریش مکہ کو
انسانی مورت کی شکل میں ملا جو سرخ عقیق سے تراشا ھوا تھا.. اس کا
دایاں ھاتھ ٹوٹا ھوا تھا.. قریش مکہ نے وہ سونے کا بنوا کر لگا دیا.. ھبل خاص
خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا.. مشرکین مکہ جنگوں میں اسی ھبل کا نام
لیکر نعرے لگاتے تھے.. فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
اسے پاش پاش کیا..

عزی'..

مکہ سے چند میل دور وادی نخلہ میں کیکر کے ایک درخت کے نیچے عزی' کا
تھان تھا جہاں عزی' کا بت نصب تھا جبکہ خانہ کعبہ میں بھی عزی' کا بت رکھا
ھوا تھا جسے فتح مکہ کے وقت توڑا گیا.. جبکہ وادی نخلہ میں عزی' کے اصل
بت کو توڑنے کے لیے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا.. عزی' کا
بت مشرکین مکہ کے نزدیک سب سے عظیم ترین بت تھا..

لات..

یہ طائف میں اس جگہ نصب تھا جہاں آج کل مسجد طائف کا بایاں مینار ھے..
لات کے معنی ھے "ستو گھولنے والا".. دراصل یہ ایک شخص تھا جو حاجیوں
کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا.. بعد میں عمرو بن لحی کے ایما پر اس کا بت
بنا کر اس کی پوجا کی جانے لگی.. قریش رات سونے سے پہلے عزی' اور
لات کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور قسم بھی انہی دو بتوں کی کھایا کرتے تھے..

منات..

یہ عرب کا سب سے قدیم ترین بت تھا جو مکہ اور مدینہ کے بیچ میں "مشلل"
کے علاقہ میں "قدید" کے مقام پر سمندر کے قریب نصب تھا.. منات کی پوجا
کا آغاز بھی عمرو بن لحی نے کیا.. قبائل اوس و خزرج جب حج کرکے واپس
مدینہ کو روانہ ھوتے تو منات کے بت کے پاس ھی احرام اتارا کرتے جبکہ بنو ازد
اور بنو غسان تو باقائدہ اسی بت کا حج بھی کرتے تھے.. اھل مدینہ کے نزدیک
حج کی تکمیل تب تک نہ ھوتی تھی جب تک منات کی پوجا نہ کی جاۓ.. اس
بت کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر فتح مکہ کے لیے
جاتے ھوۓ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منہدم کردیا..

اساف و نائلہ..

یہ انسانی شکل کے بت تھے.. دراصل ایک مرد "اساف" اور عورت "نائلہ" کعبہ
میں زنا کے مرتکب ھوۓ اور جب لوگوں نے آکر دیکھا تو وہ پتھر بن چکے تھے..
اھل مکہ نے انہیں عبرت کے لیے صفا اور مروہ پر رکھ دیا تھا مگر انہیں بھی
عمرو بن لحی حرم کعبہ میں لے آیا اور زم زم کے پاس رکھ دیا.. لوگ ان کا طواف
بھی کرتے اور قربانیاں بھی کرتے تھے..

سواع..

یہ ان پانچ بتوں میں شامل تھا جن کو قوم نوح پوجا کرتی تھی اور جنہیں عمرو
بن لحی شام سے لایا تھا.. باقی چار بتوں میں نسر , ود , یعوق اور یغوث شامل
ھیں.. یہ بت عورت کی شکل میں تھا اور مدینہ منورہ کے قریب نصب تھا..

نسر..

یہ بت یمن میں حمیر کے علاقے میں نصب تھا.. یہ گدھ کی شکل میں تھا..
اھل حمیر تب تک اس کی پوجا کرتے رھے جب تک انہوں نے یہودی مذھب
اختیار نہ کرلیا..

یعوق..

یعوق کے معنی "مصیبت روکنے والا" ھیں.. گھوڑے کی شکل والا یہ بت عمرو
بن لحی شام سے لایا تھا اور اسے بنو ھمدان و خولان کے حوالے کیا تھا جو
اسے اپنے ساتھ یمن لے گئے اور اسے "صنعاء" سے کچھ فاصلے پر "ارحب"
کے مقام پر نصب کرکے اس کی پوجا شروع کردی..

یغوث..

یہ بت بھی یمن کے ایک علاقہ "اکمہ" میں نصب تھا.. یہ شیر کی شکل کا بت
تھا.. یغوث کے معنی "فریاد کو پہنچنے والا" ھیں..

ود..

یہ بت دومتہ الجندل کے مقام پر نصب تھا اور بنو کلب اس کی پوجا کرتے تھے
جبکہ قریش مکہ بھی اس کی عظمت کے قائل تھے اور اس کو پوجتے تھے..

انکے علاوہ عائم , الضیزنان , اقیصر , الجلسد , ذوالخلصہ , ذوالشری اور ذوالکفین
بھی عربوں کے اھم بتوں میں شامل ھیں جبکہ غیر اھم بتوں کی ایک کثیر
تعداد ان کے علاوہ ہے ۔

سیرت النبی قسط (8)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 08

جب حضرت ابراھیم علیہ سلام نے حضرت اسمائیل علیہ سلام کے
ساتھ ملکر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو آپ کی تبلیغ سے قبائل جرھم
و قطورا نے دین ابراھیمی قبول کرلیا اور اللہ کو ایک خدا مان لیا..
حضرت ابراھیم علیہ سلام کے بعد حضرت اسمائیل علیہ سلام کے
اثر سے بعد میں مکہ آباد ھونے والے بھی دین حنیف یعنی حضرت
ابراھیم علیہ سلام کا دین قبول کرتے رھے.. تب آل اسمائیل سمیت
تمام قبائل مکہ صرف ایک واحد خدا کی عبادت کے قائل تھے اور
خانہ کعبہ کا تقدس پوری طرح سے قائم تھا لیکن جب حضرت اسمائیل
علیہ سلام کی وفات کے بعد پھر کوئی نبی اھل مکہ کی راھنمائی
کے لیے مبعوث نہ ھوا تو آھستہ آھستہ ان میں شرک و گمراھی
پھیلنے لگی..

مکہ پر قبیلہ ایاد و بنو خزاعہ یکے بعد دیگرے حملہ آور ھوۓ تو بنو
اسمائیل کے کئی قبائل کو مکہ چھوڑنا بھی پڑا.. تب یہ لوگ برکت کی
غرض سے کعبہ کا ایک پتھر بھی اپنے ساتھ لے گئے.. کعبہ سے
نسبت کی وجہ سے وہ اس کی بہت تعظیم کرنے لگے.. اس تعظیم کا
اثر یہ ھوا کہ آھستہ آھستہ آنے والے وقت میں ان کی آل اولاد نے خود
اسی پتھر کو معبود مجازی کا درجہ دے دیا.. اس طرح ان میں شرک
رائج ھونا شروع ھوا..

لیکن حقیقی معنوں میں عربوں اور خصوصا" اھل مکہ میں باقائدہ
شرک و بت پرستی کا آغاز حضرت ابراھیم علیہ سلام سے کم و بیش
ڈھائی ھزار سال بعد ھوا جب بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کیا.. عربوں میں
بت پرستی کا آغاز کرنے والا قبیلہ خزاعہ کا سردار " عمرو بن لحی" تھا..
یہ شخص خانہ کعبہ کا متولی تھا.. ایک بار جب وہ شام گیا تو وھاں اس
نے لوگوں کو بتوں کی پرستش کرتے دیکھا..

یہ کل پانچ بت تھے جن کے نام "ود , یغوث , سواع , یعوق اور نسر" تھے..
ان بتوں کو قوم نوح علیہ سلام پوجا کرتی تھی.. یہ شخص وھاں سے ان
کے بت ساتھ لے آیا اور واپسی پر ان کو جدہ کے ایک مقام پر دفن کردیا..
جب مکہ واپس پہنچا تو وھاں مشھور کیا کہ اسے اس کے تابع جن نے ان
بتوں کا پتہ بتایا ھے جنہیں قوم نوح پوجا کرتی تھی.. پھر وہ اھل مکہ کو
جو پہلے ھی شرک و بت پرستی کی طرف راغب ھوچکے تھے , ساتھ
لیکر جدہ پہنچا اور وھاں سے وہ بت زمین کھود کر نکال لیے اور انہیں مکہ
لا کر خانہ کعبہ میں رکھ دیا جھاں تعظیم کے نام پر ان بتوں کی عبادت
شروع

سیرتِ النبی قسط نمبر (7)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 07

قریش اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبہ کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے
تھے لہذا حضرت عبدالمطلب نے انہیں کہا کہ سب اپنے بال بچوں اور
مال مویشی لیکر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ھو..

پھر وہ قریش کے چند سرداروں کے ساتھ حرم کعبہ پہنچے اور اللہ کے
حضور اپنی کمزوری کا اظہار کرکے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر کی
خود حفاظت فرماۓ.. مؤرخین نے حضرت عبدالمطلب کے جو دعائیہ
اشعار نقل کیے وہ یہ ھیں.

"الہی! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ھے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت
فرما.. کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر غالب نہ آنے پاۓ..
صلیب کی آل کے مقابلے پر آج اپنی آل کی مدد فرما..

اے میرے رب ! تیرے سوا میں ان کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں
رکھتا.. اے میرے رب ! ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما.."

یہ دعائیں مانگ کر حضرت عبدالمطلب بھی سرداران قریش کے ساتھ باقی
اھل مکہ کے پاس پہاڑوں میں چلے گئے..

دوسرے روز ابرھہ نے مکہ پر حملہ کا حکم دیا اور وہ مکہ میں داخل ھونے
کے لیے آگے بڑھا مگر حیرت انگیز طور پر اس کا خاص ھاتھی "محمود" مکہ
کی طرف چلنے کی بجاۓ یکایک وھیں بیٹھ گیا اور بےپناہ کوشش کے باوجود
بھی اپنی جگہ سے نہ ھلا مگر جب اس کا مونھ شام کی طرف کیا گیا تو اٹھ کر چلنے لگا اور یمن کی طرف رخ ھوا تو ادھر بھی دوڑنے لگا مگر مکہ کی طرف اسے چلانے کی کوشش کی جاتی تو ایک انچ ادھر نہ بڑھتا.. نتیجتہ" باقی ھاتھیوں سمیت سارا لشکر بھی اپنی جگہ انتظار میں رکا ھوا تھا..

ابھی وہ اسی چکر میں پھنسے تھے کہ اللہ کے قہر نے ان کو آ لیا اور اللہ
کے حکم سے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ ان پر نازل ھوگئے.. ھر ابابیل
کے چونچ اور دونوں پنجوں میں سنگریزے دبے ھوۓ تھے.. ابرھہ اور اس کے
لشکر کے وھم و گمان میں بھی نہ ھوگا کہ ان کے ساتھ کیا ھونے والا ھے ابابیلوں نے عین ان کے اوپر آ کر وہ سنگ ریزے گرانا شروع کردیے..

وہ سنگ ریزے , سنگ ریزے کہاں تھے.. وہ تو اللہ کا عذاب تھے.. جس پر
جہاں گرتے , بجاۓ صرف زخمی کرنے کے کسی چھوٹے بم کی سی
تباھی مچا دیتے.. اللہ کے گھر پر حملہ کرنے کی جرآت کرنے والوں کے
لیے کہیں کوئی جاۓ پناہ نہ تھی..

تھوڑی ھی دیر میں ابرھہ اپنے 60 ھزار کے لشکر اور 13 ھاتھیوں سمیت سنگریزوں کی اس بارش م

سیرتِ النبی قسط نمب(6)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 06

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ھاتھی والوں کے ساتھ کیا
کیا..؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو نامراد نہیں بنا دیا..؟ اللہ نے ان پر
پرندوں (ابابیل) کے جھنڈ بھیجے جو ان پر (کھنگر مٹی کی) کنکریاں
پھینکتے تھے.. اس طرح اللہ نے ان کو کھاۓ ھوۓ بھوسے کی طرح کردیا..

سورہ الفیل.. آیت 1 تا 5..

واقعہ اصحاب الفیل حضرت محمد مصطفی' صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کی ولادت مبارکہ والے سال یعنی 571 عیسوی میں پیش آیا جب یمن
کا حبشی نژاد عیسائی حکمران "ابرھہ بن اشرم" 60 ھزار فوج اور 13
ھاتھی لیکر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ھوا..

ابرھہ بن اشرم آغاز میں اس عیسائی فوج کا ایک سردار تھا جو شاہ
حبشہ نے یمن کے حمیری نسل کے یہودی فرماں روا "یوسف ذونواس"
کے عیسائیوں پر ظلم و ستم کا بدلہ لینے کو بھیجی جس نے 525
عیسوی تک اس پورے علاقے پر حبشی حکومت کی بنیاد رکھ دی..
ابرھہ بن اشرم رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کرتے ھوۓ بالآخر یمن
کا خود مختار بادشاہ بن بیٹھا لیکن کمال چالاکی سے اس نے براۓ
نام شاہ حبشہ کی بالادستی بھی تسلیم کیے رکھی اور اپنے آپ کو
نائب شاہ حبشہ کہلواتا رھا..

ابرھہ ایک کٹر متعصب عیسائی تھا.. اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد
اس نے عربوں میں عیسائیت پھیلانے کی سوچی جبکہ اس کا دوسرا
ارادہ عربوں کی تجارت پر قبضہ جمانا تھا..

اس مقصد کے اس نے یمن کے دارالحکومت "صنعاء" میں ایک عظیم
الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا جسے عرب مؤرخین "القلیس" اور یونانی "ایکلیسیا" کہتے ھیں.. اس کلیسا کی تعمیر سے اس کے دو مقاصد
تھے.. ایک تو عیسائیت کی تبلیغ کرکے عربوں کے حج کا رخ کعبہ سے
اپنے کلیسا کی طرف موڑنا تھا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ھوجاتا
تو اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ عربوں کی ساری تجارت جو ابھی تک
خانہ کعبہ کی وجہ سے عربوں کے پاس تھی , وہ یمن کے حبشی
عیسائیوں کے ھاتھ آ جاتی..

ابرھہ نے پہلے شاہ جبشہ کو اپنے اس ارادے کی اطلاع دی اور پھر یمن
میں علی الاعلان منادی کرادی کہ " میں عربوں کا حج کعبہ سے اکلیسیا
کی طرف موڑے بغیر نہ رھوں گا.."

اس کے اس اعلان پر غضب ناک ھو کر ایک عرب (حجازی) نے کسی نہ
کسی طرح ابرھہ کے گرجا میں گھس کر رفع حاجت کرڈالی.. اپنے کلیسا
کی اس توھی

سیرتِ النبی قسط نمبر(5)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 5

حضرت ھاشم نے قیصر روم کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات قائم
کرلیے تھے.. چنانچہ اسی سلسلے میں شام کی طرف سفر کے
دوران ان کی شادی بنو نجار کی ایک معزز خاتون سلمی' سے ھوئی مگر بدقسمتی سے اسی سفر کے دوران حضرت ھاشم کا انتقال ھوگیا..

ان کی وفات کے بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ھوا جس کا نام " شیبہ " رکھا
گیا مگر چونکہ شیبہ کو ان کے چچا مطلب بن عبد مناف نے پالا پوسا
تو شیبہ کو عبدالمطلب (مطلب کا غلام) کہا جانے لگا اور پھر انہیں
تاریخ نے ھمیشہ اسی نام سے یاد رکھا ۔

حضرت عبدالمطلب بے حد حسین جمیل , وجیہہ اور شاندار شخصیت
کے مالک تھے.. اللہ نے انہیں بےحد عزت سے نوازا اور وہ قریش مکہ
کے اھم ترین سردار بنے ۔

ایک مدت تک ان کی اولاد میں ایک ھی بیٹا تھا جن کا نام حارث تھا -
حضرت عبدالمطلب کو بہت خواھش تھی کہ وہ کثیر اولاد والے ھوں
چنانچہ انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ ان کو دس بیٹے عطا کرے گا
اور وہ سب نوجوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی
راہ میں قربان کردیں گے ـ

اللہ نے ان کی دعا اور منت کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دس یا
بارہ بیٹے پیدا ھوئے جن میں سے ایک جناب حضرت عبداللہ تھے ـ

آپ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور نہ صرف
اپنے والد کے بلکہ پورے خاندان کے بہت چہیتے تھے..
حضرت عبدالمطلب کو ان سے بہت محبت تھی ۔

دس بیٹوں کی پیدائش کے بعد جب تمام کے تمام نوجوانی کی عمر
کو پہنچے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی منت یاد آئی.. چنانچہ وہ اپنے
سب بیٹوں کو لیکر حرم کعبہ میں پہنچ گئے.. جب عربوں کے مخصوص
طریقے سے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا ۔

حضرت عبدالمطلب یہ دیکھ کر بہت پریشان ھوۓ کیونکہ شدت محبت
کی وجہ سے ان کا دل نہ چاھتا تھا کہ حضرت عبداللہ کو قربان کردیں
مگر چونکہ وہ منت مان چکے تھے تو اس کی خلاف ورزی بھی نہیں
کرنا چاھتے تھے.. چنانچہ حضرت عبداللہ کو لیکر قربان گاہ کی طرف بڑھے۔

یہ دیکھ کر خاندان بنو ھاشم کے افراد جن کو حضرت عبداللہ سے بہت
لگاؤ تھا ' بہت پریشان ھوۓ.. وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آۓ اور
انہیں اس سلسلے میں یثرب (مدینہ) کی ایک کاھنہ عورت سے مشورہ
کرنے کو کہا.. چنانچہ جب اس کاھنہ عورت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے
اس کا

سیرتِ النبی قسط نمبر (4)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 4

پچھلی قسط میں قصی بن کلاب کا ذکر کیا گیا.. ایک روایت کے مطابق
انہی کا لقب قریش تھا جس کی وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریش
کہا جانے لگا جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قصی بن کلاب سے
چھ پشت پہلے بنی اسمائیل میں "فہر بن مالک" ایک بزرگ تھے جن
کا لقب قریش تھا ۔

خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ قصی بن کلاب
اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک
خصوصی عزت و سیادت حاصل ھوگئی تھی اور پھر اس قریش
(آل قصی بن کلاب) نے خود کو اس کے قابل ثابت بھی کیا.

قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا جملہ انتظام و انتصرام کا
بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقائدہ ایک ریاست کا
روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کیے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم
کیا جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم
سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں
بانٹ لیا اور یہی نظام بعث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بڑی کامیابی
سے چلایا گیا ۔

اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد
حضرت ھاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام) , عمارۃ البیت
(حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور
افاضہ (حج کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئیں جو ان کے بعد
بنو ھاشم کے خاندان میں نسل در نسل چلتی رھیں ۔

حضرت ھاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے.. نہائت ھی
جلیل القدر بزرگ تھے.. انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی اپنے
سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے جبکہ مختلف قبائل عرب سے
بھی معاھدات کرلیے.. ان کی اس پالیسی کی وجہ سے قریش کے باقی
قبائل میں بنو ھاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ھوگیا تھا..

ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور علم برداری کا شعبہ خاندان
بنو امیہ کے حصے میں آیا.. لشکر قریش کا سپہ سالار بنو امیہ سے ھی
ھوتا تھا چنانچہ "حرب" جو حضرت ھاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے تھے'
ان کو اور انکے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر
کی قیادت سونپی جاتی تھی ۔

جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو تیم بن مرہ کو
اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت , دیت و جرمانے کی وصولی اور
تعین کی ذمہ داری سونپی گئی..

اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی
کے حصے میں آیا.. ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ مذاکرات , معاھدات
اور سفارت کاری تھا ۔

بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا.. ان کے حصے
میں "قبہ و اعنہ" کا شعبہ آیا.. ان کا کام قومی ضروریات کے لیے مال و اسباب
اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور گھوڑوں کی فراھمی تھا.. قریش کے
گھڑسوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ھوتا تھا.. اپنا وقت آنے پر
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی کمان
نہائت خوش اسلوبی سے سنبھالی..

اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری مختلف قبائل قریش کے
حوالے کردی گئی..

( جاری ہے )

سیرتِ النبی قسط 2

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ

قسط نمبر 2

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ___ قبل اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی دیانت , راست بازی اور امانت کا خاص شہرہ تھا.. اہل مکہ ان کو علم , تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے.. ایام جاہلیت میں خوں بہا کا مال آپ ہی کے ہاں جمع ہوتا تھا.. اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا تو قریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے

(کنز العمال.. ج ۶ :۳۱۳)

حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو ایام جاہلیت میں بھی شراب , بدکاری اور جملہ فواحش سے ویسی ہی نفرت تھی جیسی زمانۂ اسلام میں.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بچپن ہی سے ان کو خاص انس اور خلوص تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ احباب میں داخل تھے.. اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا..

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا قبول اسلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفی طور پر احباب مخلصین اور محرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے سب سے پہلے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا . بعض ارباب سیر نے ان کے قبول اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کئے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں.. اصل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کا آئینہ دل پہلے سے صاف تھا.. فقط خورشید حقیقت کی عکس افگنی کی دیر تھی.. گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کردیا تھا کہ معرفت حق کے لئے کوئی انتظار باقی نہ رہا.. البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مورخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے..

بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام سب سے مقدم ہے.. بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اولیت کا فخرحاصل ہے اور بعض کا خیال ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسے اخبار و آثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کے لئے مخصوص ہے.. حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہا کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے..

"جب تمہیں کسی سچے بھائی کا غم آوے تو اپنے بھائی ابوبکر رضی اللہ عنہ
کو یاد کرو ان کے کارناموں کی بنا پر..

وہ تمام مخلوق میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تقویٰ اور عدل کے
لحاظ سے بہتر تھے اور انہوں نے جو کچھ اٹھایا اس کو پورا کرکے چھوڑا..

وہی ثانی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد متصل ہیں جن کی مشکلات میں موجودگی کی تعریف کی گئی اور وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ہے.."

محققین نے ان مختلف احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں , حضرت علی رضی اللہ عنہ بچوں میں , حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ غلاموں میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں..

(فتح الباری , ج ۷ , ص ۱۳۰)

اشاعت اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمان ہونے کے ساتھ ہی دین حنیف کی نشر واشاعت کے لئے جدوجہد شروع کردی اور صرف آپ کی دعوت پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ , حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ , حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ , حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جو معدن اسلام کے سب سے تاباں و درخشاں جواہر ہیں مشرف بااسلام ہوئے.. حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ , حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ , حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن سعیدبن العاص رضی اللہ عنہ بھی آپ ہی کی ہدایت سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے.. یہ وہ اکابر صحابہ ہیں جو آسمان اسلام کے اختر ہائے تاباں ہیں لیکن ان ستاروں کا مرکز شمسی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کی ذات تھی..

اعلانیہ دعوت کے علاوہ ان کا مخفی روحانی اثر بھی سعید روحوں کو اسلام کی طرف مائل کرتا تھا چنانچہ اپنے صحن خانہ میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی تھی اور اس میں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت الہیٰ میں مشغول رہتے تھے.. آپ رضی اللہ عنہ نہایت رقیق القلب تھے.. قرآن پاک کی تلاوت فرماتے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے.. لوگ آپ کے گریہ وبکا کو دیکھ کر جمع ہوجاتے اور اس پراثر منظر سے نہات متاثر ہوتے..

(بخاری , باب الہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصحابہ الی المدینہ)

جاری ھے

Disqus Shortname

designcart