~~~ عمل کے بغیر ~~~

~~~ عمل کے بغیر ~~~
آج کاغذ کی اتنی افراط ہے کہ جہاں بھی دیکھیں کاغذ کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا ملے گا... مگر ان کی کوئی قیمت نہیں .. نوٹ بھی ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے مگر اس کی قیمت ہے... اس کی قیمت اتنی یقینی ہے کہ کوئی بھی آدمی اس پر شبہ نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ کاغذ کے ٹکڑے کی کسی نے ضمانت نہیں لی مگر نوٹ کے پیچھے سرکاری بنک کی ضمانت ہے...یہی ضمانت ہے جس نے نوٹ کے کاغذ کو لوگوں کے لیے قیمتی بنا دیا ہے...
یہی معاملہ الفاظ کا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ آج جتنے الفاظ بولے جارہے ہیں تاریخ کے کسی دور میں نہیں بولے گئے..مگر ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ ان کے پیچھے اٹل ارادہ کی ضمانت شامل نہیں ہے..ایک شخص اپ سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کا فلاں کام کردے گا مگر جب مقررہ وقت پر آپ اس کی حمایت مانگتے ہیں تو وہ بہانہ کردیتا ہے...
جب اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو گویا اس نے اپنے الفاظ کی قیمت پوری نہیں کی اس نے الفاظ کا کاغذ تو دے دیا مگر عمل جو اس کاغذ کی قیمت تھا اس کو دینے کے لیے تیار نہ ہوا...آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسلہء یہ ہے کہ الفاظ کی سطح پر ہر آدمی بڑے بڑے الفاظ بول رہا ہے..مگر اپنے الفاظ کی عملی قیمت دینے کے لیے کوئی شخص تیار نہیں...
ایک شخص مظلوموں کی حمایت میں بیانات اور تجویزوں کے انبار لگا رہا ہے مگر جب اس کے قریب کا کوئی شخص اس کا دروازہ کھٹکٹھاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میری مظلومیت پر میری مدد کرو تو وہ اس کو برف کی طرح بلکل سرد پاتا ہے..اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی جو لفظ بول رہا تھا اس کے پیچھے اس کا حقیقی ارادہ شامل نہ تھا...وہ محض زبانی آلفاظ تھے نہ کہ کوئی حقیقی فیصلہ...
ایک شخص لوگوں کے سامنے شرافت اور تواضع کی تصویر بنا رہتا ہے مگر جب اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو وہ حسد اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کی شرافت محض ظاہری تھی وہ اس کی روح میں اتری ہوئی نہ تھی..
مولانا وحیدالدین خان...
خدا اور انسان...
صفحہ 42...