سیرتِ النبی قسط 2

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ

قسط نمبر 2

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ___ قبل اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی دیانت , راست بازی اور امانت کا خاص شہرہ تھا.. اہل مکہ ان کو علم , تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے.. ایام جاہلیت میں خوں بہا کا مال آپ ہی کے ہاں جمع ہوتا تھا.. اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا تو قریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے

(کنز العمال.. ج ۶ :۳۱۳)

حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو ایام جاہلیت میں بھی شراب , بدکاری اور جملہ فواحش سے ویسی ہی نفرت تھی جیسی زمانۂ اسلام میں.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بچپن ہی سے ان کو خاص انس اور خلوص تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ احباب میں داخل تھے.. اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا..

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا قبول اسلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفی طور پر احباب مخلصین اور محرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے سب سے پہلے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا . بعض ارباب سیر نے ان کے قبول اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کئے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں.. اصل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کا آئینہ دل پہلے سے صاف تھا.. فقط خورشید حقیقت کی عکس افگنی کی دیر تھی.. گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کردیا تھا کہ معرفت حق کے لئے کوئی انتظار باقی نہ رہا.. البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مورخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے..

بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام سب سے مقدم ہے.. بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اولیت کا فخرحاصل ہے اور بعض کا خیال ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسے اخبار و آثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کے لئے مخصوص ہے.. حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہا کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے..

"جب تمہیں کسی سچے بھائی کا غم آوے تو اپنے بھائی ابوبکر رضی اللہ عنہ
کو یاد کرو ان کے کارناموں کی بنا پر..

وہ تمام مخلوق میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تقویٰ اور عدل کے
لحاظ سے بہتر تھے اور انہوں نے جو کچھ اٹھایا اس کو پورا کرکے چھوڑا..

وہی ثانی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد متصل ہیں جن کی مشکلات میں موجودگی کی تعریف کی گئی اور وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ہے.."

محققین نے ان مختلف احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں , حضرت علی رضی اللہ عنہ بچوں میں , حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ غلاموں میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں..

(فتح الباری , ج ۷ , ص ۱۳۰)

اشاعت اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمان ہونے کے ساتھ ہی دین حنیف کی نشر واشاعت کے لئے جدوجہد شروع کردی اور صرف آپ کی دعوت پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ , حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ , حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ , حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جو معدن اسلام کے سب سے تاباں و درخشاں جواہر ہیں مشرف بااسلام ہوئے.. حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ , حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ , حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن سعیدبن العاص رضی اللہ عنہ بھی آپ ہی کی ہدایت سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے.. یہ وہ اکابر صحابہ ہیں جو آسمان اسلام کے اختر ہائے تاباں ہیں لیکن ان ستاروں کا مرکز شمسی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کی ذات تھی..

اعلانیہ دعوت کے علاوہ ان کا مخفی روحانی اثر بھی سعید روحوں کو اسلام کی طرف مائل کرتا تھا چنانچہ اپنے صحن خانہ میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی تھی اور اس میں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت الہیٰ میں مشغول رہتے تھے.. آپ رضی اللہ عنہ نہایت رقیق القلب تھے.. قرآن پاک کی تلاوت فرماتے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے.. لوگ آپ کے گریہ وبکا کو دیکھ کر جمع ہوجاتے اور اس پراثر منظر سے نہات متاثر ہوتے..

(بخاری , باب الہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصحابہ الی المدینہ)

جاری ھے