سیرتِ النبی قسط نمب(6)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 06

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ھاتھی والوں کے ساتھ کیا
کیا..؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو نامراد نہیں بنا دیا..؟ اللہ نے ان پر
پرندوں (ابابیل) کے جھنڈ بھیجے جو ان پر (کھنگر مٹی کی) کنکریاں
پھینکتے تھے.. اس طرح اللہ نے ان کو کھاۓ ھوۓ بھوسے کی طرح کردیا..

سورہ الفیل.. آیت 1 تا 5..

واقعہ اصحاب الفیل حضرت محمد مصطفی' صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کی ولادت مبارکہ والے سال یعنی 571 عیسوی میں پیش آیا جب یمن
کا حبشی نژاد عیسائی حکمران "ابرھہ بن اشرم" 60 ھزار فوج اور 13
ھاتھی لیکر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ھوا..

ابرھہ بن اشرم آغاز میں اس عیسائی فوج کا ایک سردار تھا جو شاہ
حبشہ نے یمن کے حمیری نسل کے یہودی فرماں روا "یوسف ذونواس"
کے عیسائیوں پر ظلم و ستم کا بدلہ لینے کو بھیجی جس نے 525
عیسوی تک اس پورے علاقے پر حبشی حکومت کی بنیاد رکھ دی..
ابرھہ بن اشرم رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کرتے ھوۓ بالآخر یمن
کا خود مختار بادشاہ بن بیٹھا لیکن کمال چالاکی سے اس نے براۓ
نام شاہ حبشہ کی بالادستی بھی تسلیم کیے رکھی اور اپنے آپ کو
نائب شاہ حبشہ کہلواتا رھا..

ابرھہ ایک کٹر متعصب عیسائی تھا.. اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد
اس نے عربوں میں عیسائیت پھیلانے کی سوچی جبکہ اس کا دوسرا
ارادہ عربوں کی تجارت پر قبضہ جمانا تھا..

اس مقصد کے اس نے یمن کے دارالحکومت "صنعاء" میں ایک عظیم
الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا جسے عرب مؤرخین "القلیس" اور یونانی "ایکلیسیا" کہتے ھیں.. اس کلیسا کی تعمیر سے اس کے دو مقاصد
تھے.. ایک تو عیسائیت کی تبلیغ کرکے عربوں کے حج کا رخ کعبہ سے
اپنے کلیسا کی طرف موڑنا تھا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ھوجاتا
تو اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ عربوں کی ساری تجارت جو ابھی تک
خانہ کعبہ کی وجہ سے عربوں کے پاس تھی , وہ یمن کے حبشی
عیسائیوں کے ھاتھ آ جاتی..

ابرھہ نے پہلے شاہ جبشہ کو اپنے اس ارادے کی اطلاع دی اور پھر یمن
میں علی الاعلان منادی کرادی کہ " میں عربوں کا حج کعبہ سے اکلیسیا
کی طرف موڑے بغیر نہ رھوں گا.."

اس کے اس اعلان پر غضب ناک ھو کر ایک عرب (حجازی) نے کسی نہ
کسی طرح ابرھہ کے گرجا میں گھس کر رفع حاجت کرڈالی.. اپنے کلیسا
کی اس توھی

سیرتِ النبی قسط نمبر(5)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 5

حضرت ھاشم نے قیصر روم کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات قائم
کرلیے تھے.. چنانچہ اسی سلسلے میں شام کی طرف سفر کے
دوران ان کی شادی بنو نجار کی ایک معزز خاتون سلمی' سے ھوئی مگر بدقسمتی سے اسی سفر کے دوران حضرت ھاشم کا انتقال ھوگیا..

ان کی وفات کے بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ھوا جس کا نام " شیبہ " رکھا
گیا مگر چونکہ شیبہ کو ان کے چچا مطلب بن عبد مناف نے پالا پوسا
تو شیبہ کو عبدالمطلب (مطلب کا غلام) کہا جانے لگا اور پھر انہیں
تاریخ نے ھمیشہ اسی نام سے یاد رکھا ۔

حضرت عبدالمطلب بے حد حسین جمیل , وجیہہ اور شاندار شخصیت
کے مالک تھے.. اللہ نے انہیں بےحد عزت سے نوازا اور وہ قریش مکہ
کے اھم ترین سردار بنے ۔

ایک مدت تک ان کی اولاد میں ایک ھی بیٹا تھا جن کا نام حارث تھا -
حضرت عبدالمطلب کو بہت خواھش تھی کہ وہ کثیر اولاد والے ھوں
چنانچہ انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ ان کو دس بیٹے عطا کرے گا
اور وہ سب نوجوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی
راہ میں قربان کردیں گے ـ

اللہ نے ان کی دعا اور منت کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دس یا
بارہ بیٹے پیدا ھوئے جن میں سے ایک جناب حضرت عبداللہ تھے ـ

آپ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور نہ صرف
اپنے والد کے بلکہ پورے خاندان کے بہت چہیتے تھے..
حضرت عبدالمطلب کو ان سے بہت محبت تھی ۔

دس بیٹوں کی پیدائش کے بعد جب تمام کے تمام نوجوانی کی عمر
کو پہنچے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی منت یاد آئی.. چنانچہ وہ اپنے
سب بیٹوں کو لیکر حرم کعبہ میں پہنچ گئے.. جب عربوں کے مخصوص
طریقے سے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا ۔

حضرت عبدالمطلب یہ دیکھ کر بہت پریشان ھوۓ کیونکہ شدت محبت
کی وجہ سے ان کا دل نہ چاھتا تھا کہ حضرت عبداللہ کو قربان کردیں
مگر چونکہ وہ منت مان چکے تھے تو اس کی خلاف ورزی بھی نہیں
کرنا چاھتے تھے.. چنانچہ حضرت عبداللہ کو لیکر قربان گاہ کی طرف بڑھے۔

یہ دیکھ کر خاندان بنو ھاشم کے افراد جن کو حضرت عبداللہ سے بہت
لگاؤ تھا ' بہت پریشان ھوۓ.. وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آۓ اور
انہیں اس سلسلے میں یثرب (مدینہ) کی ایک کاھنہ عورت سے مشورہ
کرنے کو کہا.. چنانچہ جب اس کاھنہ عورت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے
اس کا

سیرتِ النبی قسط نمبر (4)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر 4

پچھلی قسط میں قصی بن کلاب کا ذکر کیا گیا.. ایک روایت کے مطابق
انہی کا لقب قریش تھا جس کی وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریش
کہا جانے لگا جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قصی بن کلاب سے
چھ پشت پہلے بنی اسمائیل میں "فہر بن مالک" ایک بزرگ تھے جن
کا لقب قریش تھا ۔

خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ قصی بن کلاب
اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک
خصوصی عزت و سیادت حاصل ھوگئی تھی اور پھر اس قریش
(آل قصی بن کلاب) نے خود کو اس کے قابل ثابت بھی کیا.

قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا جملہ انتظام و انتصرام کا
بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقائدہ ایک ریاست کا
روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کیے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم
کیا جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باھمی افہام و تفہیم
سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں
بانٹ لیا اور یہی نظام بعث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بڑی کامیابی
سے چلایا گیا ۔

اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد
حضرت ھاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام) , عمارۃ البیت
(حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور
افاضہ (حج کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئیں جو ان کے بعد
بنو ھاشم کے خاندان میں نسل در نسل چلتی رھیں ۔

حضرت ھاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے.. نہائت ھی
جلیل القدر بزرگ تھے.. انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی اپنے
سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے جبکہ مختلف قبائل عرب سے
بھی معاھدات کرلیے.. ان کی اس پالیسی کی وجہ سے قریش کے باقی
قبائل میں بنو ھاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ھوگیا تھا..

ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور علم برداری کا شعبہ خاندان
بنو امیہ کے حصے میں آیا.. لشکر قریش کا سپہ سالار بنو امیہ سے ھی
ھوتا تھا چنانچہ "حرب" جو حضرت ھاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے تھے'
ان کو اور انکے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر
کی قیادت سونپی جاتی تھی ۔

جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو تیم بن مرہ کو
اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت , دیت و جرمانے کی وصولی اور
تعین کی ذمہ داری سونپی گئی..

اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی
کے حصے میں آیا.. ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ مذاکرات , معاھدات
اور سفارت کاری تھا ۔

بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا.. ان کے حصے
میں "قبہ و اعنہ" کا شعبہ آیا.. ان کا کام قومی ضروریات کے لیے مال و اسباب
اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور گھوڑوں کی فراھمی تھا.. قریش کے
گھڑسوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ھوتا تھا.. اپنا وقت آنے پر
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی کمان
نہائت خوش اسلوبی سے سنبھالی..

اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری مختلف قبائل قریش کے
حوالے کردی گئی..

( جاری ہے )

سیرتِ النبی قسط 2

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ

قسط نمبر 2

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ___ قبل اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی دیانت , راست بازی اور امانت کا خاص شہرہ تھا.. اہل مکہ ان کو علم , تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے.. ایام جاہلیت میں خوں بہا کا مال آپ ہی کے ہاں جمع ہوتا تھا.. اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا تو قریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے

(کنز العمال.. ج ۶ :۳۱۳)

حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو ایام جاہلیت میں بھی شراب , بدکاری اور جملہ فواحش سے ویسی ہی نفرت تھی جیسی زمانۂ اسلام میں.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بچپن ہی سے ان کو خاص انس اور خلوص تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ احباب میں داخل تھے.. اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا..

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا قبول اسلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفی طور پر احباب مخلصین اور محرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے سب سے پہلے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا . بعض ارباب سیر نے ان کے قبول اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کئے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں.. اصل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کا آئینہ دل پہلے سے صاف تھا.. فقط خورشید حقیقت کی عکس افگنی کی دیر تھی.. گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کردیا تھا کہ معرفت حق کے لئے کوئی انتظار باقی نہ رہا.. البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مورخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے..

بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام سب سے مقدم ہے.. بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اولیت کا فخرحاصل ہے اور بعض کا خیال ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسے اخبار و آثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کے لئے مخصوص ہے.. حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہا کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے..

"جب تمہیں کسی سچے بھائی کا غم آوے تو اپنے بھائی ابوبکر رضی اللہ عنہ
کو یاد کرو ان کے کارناموں کی بنا پر..

وہ تمام مخلوق میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تقویٰ اور عدل کے
لحاظ سے بہتر تھے اور انہوں نے جو کچھ اٹھایا اس کو پورا کرکے چھوڑا..

وہی ثانی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد متصل ہیں جن کی مشکلات میں موجودگی کی تعریف کی گئی اور وہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی ہے.."

محققین نے ان مختلف احادیث و آثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں , حضرت علی رضی اللہ عنہ بچوں میں , حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ غلاموں میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں..

(فتح الباری , ج ۷ , ص ۱۳۰)

اشاعت اسلام

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمان ہونے کے ساتھ ہی دین حنیف کی نشر واشاعت کے لئے جدوجہد شروع کردی اور صرف آپ کی دعوت پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ , حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ , حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ , حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جو معدن اسلام کے سب سے تاباں و درخشاں جواہر ہیں مشرف بااسلام ہوئے.. حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ , حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ , حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن سعیدبن العاص رضی اللہ عنہ بھی آپ ہی کی ہدایت سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے.. یہ وہ اکابر صحابہ ہیں جو آسمان اسلام کے اختر ہائے تاباں ہیں لیکن ان ستاروں کا مرکز شمسی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کی ذات تھی..

اعلانیہ دعوت کے علاوہ ان کا مخفی روحانی اثر بھی سعید روحوں کو اسلام کی طرف مائل کرتا تھا چنانچہ اپنے صحن خانہ میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی تھی اور اس میں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت الہیٰ میں مشغول رہتے تھے.. آپ رضی اللہ عنہ نہایت رقیق القلب تھے.. قرآن پاک کی تلاوت فرماتے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے.. لوگ آپ کے گریہ وبکا کو دیکھ کر جمع ہوجاتے اور اس پراثر منظر سے نہات متاثر ہوتے..

(بخاری , باب الہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصحابہ الی المدینہ)

جاری ھے

سیرتِ النبی قسط..(1)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ ، قسط نمبر 1

آج سے سیرت النبی ﷺ کا مبارک سلسلہ شروع کیا جا رھا ھے
لیکن آپ ﷺ کی سیرت پاک کے تذکرہ سے پہلے بہت ضروری ھے
کہ آپ کو سرزمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات
سے روشناس کرایا جاۓ تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں
کہ آپ ﷺ کی پیدائش کے وقت عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے ۔

ملک عرب ایک جزیرہ نما ھے جس کے جنوب میں بحیرہ عرب ، مشرق
میں خلیج فارس و بحیرہ عمان ، مغرب میں بحیرہ قلزم ھے . تین اطراف
سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ھے .
مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد بے آب و گیاہ
وادیوں پر مشتمل ھے جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے
لیے بھی مشھور ھیں . طبعی لحاظ سے اس ملک کے پانچ حصے ھیں .

یمن :

یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رھا ھے جس کو پرامن ھونے
کی وجہ سے یہ نام دیا گیا.. آب و ھوا معتدل ھے اور اسکے پہاڑوں کے
درمیان وسیع و شاداب وادیاں ھیں جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ھوتے
ھیں . قوم " سبا " کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی
کے لیے بہت سے بند ( ڈیم ) بناۓ جن میں " مارب " نام کا مشھور بند
بھی تھا . اس قوم کی نافرمانی کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی
بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی وجہ سے قوم سبا
عرب کے طول و عرض میں منتشر ھوگئی .

حجاز :

یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقغ ھے . حجاز ملک عرب کا وہ
حصہ ھے جسے اللہ نے نور ھدائت کی شمع فروزاں کرنے کے لیے
منتخب کیا . اس خطہ کا مرکزی شھر مکہ مکرمہ ھے جو بے آب و گیاہ
وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ھے . حجاز کا دوسرا
اھم شھر یثرب ھے جو بعد میں مدینۃ النبی کہلایا جبکہ مکہ کے مشرق
میں طائف کا شھر ھے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ عرب کے ریگستان میں
جنت ارضی کی مثل ھے . حجاز میں بدر ، احد ، بیر معونہ ،حدیبیہ اور
خیبر کی وادیاں بھی قابل ذکر ھیں .

نجد :

ملک عرب کا ایک اھم حصہ نجد ھے جو حجاز کے مشرق میں ھے اور
جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت " الریاض " واقع ھے .

حضرموت :

یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ھے . بظاھر ویران علاقہ ھے .
پرانے زمانے میں یہاں " ظفار " اور " شیبان " نامی دو شھر تھے .

مشرقی ساحلی علاقے ( عرب امارات ) :

ان میں عمان ' الاحساء اور بحرین کے علاقے شامل ھیں .. یہاں سے
پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے جبکہ آج کل یہ
علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ھے..

وادی سیناء :

حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج ایلہ کے درمیان
وادی سیناء کا علاقہ ھے جہاں قوم موسی' علیہ سلام چالیس سال
تک صحرا نوردی کرتی رھی . طور سیناء بھی یہیں واقع ھے جہاں
حضرت موسی' علیہ سلام کو تورات کی تختیاں دی گئیں .

؎ نوٹ :

ایک بات ذھن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں آج کے سعودی عرب
یمن ، بحرین ، عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام ، عراق اور مصر
جیسے ممالک بعد میں فتح ھوۓ اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وھاں
نقل مکانی کرکے آباد ھوئی اور نتیجتہ" یہ ملک بھی عربی رنگ میں
ڈھل گئے لیکن اصل عرب علاقہ وھی ھے جو موجودہ سعودیہ ،
بحرین ، عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ھے اور اس جزیرہ نما کی
شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ھے .

عرب کو " عرب " کا نام کیوں دیا گیا اس کے متعلق دو آراء ھیں . ایک راۓ
کے مطابق عرب کے لفظی معنی " فصاحت اور زبان آوری " کے ھیں .
عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا ھم پایہ اور
ھم پلہ نہیں سمجھتے تھے اس لیے اپنے آپ کو عرب ( فصیح البیان )
اور باقی دنیا کو عجم ( گونگا ) کہتے تھے .

دوسری راۓ کے مطابق لفظ عرب " عربہ " سے نکلا ھے جس کے
معنی صحرا اور ریگستان کے ھیں . چونکہ اس ملک کا بیشتر حصہ
دشت و صحرا پر مشتمل ھے اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا .

( جاری ہے )

تاریخ اسلام ..

سیرتِ النبی_3 Ep

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ..

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ قسط نمبر 3

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ برس تک مکہ میں تبلیغ ودعوت کا سلسلہ جاری رکھا.. حضرت ابوبکر رضی الله عنہ اس بے بسی کی زندگی میں جان , مال , رائے و مشورہ ___ غرض ہر حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ سلم کے دست و بازو اور رنج و راحت میں شریک رہے.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزانہ صبح و شام حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کے گھر تشریف لے جاتے اور دیر تک مجلس راز قائم رہتی.. قبائل عرب اور عام مجمعوں میں تبلیغ وہدایت کے لئے جاتے تو یہ بھی ہمرکاب ہوتے اور نسب دانی اور کثرت ملاقات کے باعث لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کراتے..

(کنزالعمال , ج ۶ : ۳۱۹ , فضائل ابی بکر صدیق رضی الله عنہ)

مکہ میں ابتداءً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجۂ ظلم و ستم میں گرفتار ہونے کے باعث طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا تھے.. حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے ان مظلوم بندگان توحید کو ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا.. چنانچہ حضرت بلال رضی الله عنہ , عامر بن فہیرہ رضی الله عنہ , نذیرہ رضی الله عنہا , نہدیہ رضی الله عنہا , جاریہ رضی الله عنہا , بنت مومل رضی الله عنہا اور بنت نہدیہ رضی الله عنہا وغیرہ نے اسی صدیقی جود و کرم کے ذریعہ سے نجات پائی..

کفار جب کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دست تعدی دراز کرتے تو یہ مخلص جانثار خطرہ میں پڑ کر خود سینہ سپر ہوجاتا.. ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ میں تقریر فرمارہے تھے.. مشرکین اس تقریر سے سخت برہم ہوئے اور اس قدر مارا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہوگئے.. حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے بڑھ کر کہا.. "خدا تم سے سمجھے , کیا تم ان کو صرف اس لئے قتل کردو گے کہ ایک خدا کا نام لیتے ہیں.." مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو چھوڑ دیا لیکن حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کو اتنا مارا کہ قریب المرگ ہو کر بے ہوش ہوگئے (فتح الباری , ج ۷ : ۱۲۹)

اسی طرح ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازپڑھ رہے تھے کہ اسی حالت میں عقبہ بن

Reality of Mobile Message: “Forward this or else you will be sinning and such and such will happen to you”



Recently it has become wide spread to receive an e-mail or a text message that includes a du’a or an advice. It reads: “I ask you by Allah to forward it”, or they might say: “if you forward it you will receive good news”. What is the ruling on such messages? Will I be sinful if I do not forward it?.
Praise be to Allaah.




Using modern means of communication such as mobile phones and e-mail to spread advice, exhortations, reminders and guidance is a good deed, because it is possible to reach hundreds of people with one click of the button. It is well known that the one who guides others to do good is like the one who does it, and that the one who calls others to guidance will have a reward like that of those who follow him, as Muslim (2674) narrated from Abu Hurayrah (may Allaah be pleased with him) that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “Whoever calls others to guidance will have a reward like that of those who follow it, without that detracting from their reward in the slightest.”

And Muslim (1893) narrated from Abu Mas’ood al-Ansaari (may Allaah be pleased with him) that the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “The one who tells another about something good is like the one who does it.”

If a Muslims writes some advice about the adhkaar for morning and evening, for example, and sends it to a hundred people, and many of them follow his advice, then he will have a great reward for that.

Hence we should make use of these means of communication and raise the level of the messages that are transmitted through them, so that they will be most effective and beneficial.

But unfortunately some people mix this good deed with a bad deed, which is a kind of lying and falsehood, such as saying, “If you forward this, you will hear some good news”! This is a kind of fortune-telling. There is no shar’i evidence that the one who receives advice and passes it on to another will hear good news, rather he may hear bad news, or good news, or he may not hear anything at all.

The same applies to the one who says, “I am entrusting you with this to forward it and spread it, or else you will be sinning if you do not do that,” or “Such and such will happen to the one who does not forward it.” All of this is false and there is no basis for it. The one to whom it is sent does not have to do anything and there is nothing to oblige him to forward it, and he is not sinning if he does not do that. There is no basis for stating that someone is sinning without any proof from sharee’ah, and there is no basis for speaking of the unseen future which no one knows except Allaah.

Stating that reward or punishment will come as the result of actions done is something that must be referred to Allaah. Whatever He has permitted is what is halaal, and whatever He has forbidden is what is haraam, and reward and punishment are in His hand. Whoever says anything about that without proof is lying. Allaah says (interpretation of the meaning):

“Say (O Muhammad صلى الله عليه وسلم): ‘(But) the things that my Lord has indeed forbidden are Al‑Fawaahish (great evil sins and every kind of unlawful sexual intercourse) whether committed openly or secretly, sins (of all kinds), unrighteous oppression, joining partners (in worship) with Allaah for which He has given no authority, and saying things about Allaah of which you have no knowledge’”

[al-A’raaf 7:33]

These people think that they are making people spread good by encouraging and warning them, but they are mistaken and they are overstepping the mark. They should limit themselves to that which is mentioned in sharee’ah, which is sufficient, praise be to Allaah, such as saying: “Whoever spreads this good, there is the hope that he will have a reward like that of all those who act upon it.” That should be sufficient to encourage people to spread it.

This explains the importance of knowledge, because most of those who do this only do it because of ignorance, like those who fabricated ahaadeeth and attributed them to the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) on the basis of spreading good and encouraging people to do good, but they ended up telling lies of a type for which the one who tells them is given a stern warning, but he thought that he was earning reward!

Our aim is to point out the falseness of this method and to warn people against it. Hence we say:

The one who receives any of these false messages should advise the one who sent it and explain to him that he should stop using these false incentives, and he should not believe what it says in the message, that if he forwards it such and such will happen to him and if he does not forward it such and such will happen to him, because this is a kind of lie, as stated above.

May Allaah help us all to do that which He loves and which pleases Him.

And Allaah knows best.

Via Islamqa

~~~ عمل کے بغیر ~~~

~~~ عمل کے بغیر ~~~
آج کاغذ کی اتنی افراط ہے کہ جہاں بھی دیکھیں کاغذ کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا ملے گا... مگر ان کی کوئی قیمت نہیں .. نوٹ بھی ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے مگر اس کی قیمت ہے... اس کی قیمت اتنی یقینی ہے کہ کوئی بھی آدمی اس پر شبہ نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ کاغذ کے ٹکڑے کی کسی نے ضمانت نہیں لی مگر نوٹ کے پیچھے سرکاری بنک کی ضمانت ہے...یہی ضمانت ہے جس نے نوٹ کے کاغذ کو لوگوں کے لیے قیمتی بنا دیا ہے...
یہی معاملہ الفاظ کا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ آج جتنے الفاظ بولے جارہے ہیں تاریخ کے کسی دور میں نہیں بولے گئے..مگر ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ ان کے پیچھے اٹل ارادہ کی ضمانت شامل نہیں ہے..ایک شخص اپ سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کا فلاں کام کردے گا مگر جب مقررہ وقت پر آپ اس کی حمایت مانگتے ہیں تو وہ بہانہ کردیتا ہے...
جب اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو گویا اس نے اپنے الفاظ کی قیمت پوری نہیں کی اس نے الفاظ کا کاغذ تو دے دیا مگر عمل جو اس کاغذ کی قیمت تھا اس کو دینے کے لیے تیار نہ ہوا...آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسلہء یہ ہے کہ الفاظ کی سطح پر ہر آدمی بڑے بڑے الفاظ بول رہا ہے..مگر اپنے الفاظ کی عملی قیمت دینے کے لیے کوئی شخص تیار نہیں...
ایک شخص مظلوموں کی حمایت میں بیانات اور تجویزوں کے انبار لگا رہا ہے مگر جب اس کے قریب کا کوئی شخص اس کا دروازہ کھٹکٹھاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میری مظلومیت پر میری مدد کرو تو وہ اس کو برف کی طرح بلکل سرد پاتا ہے..اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی جو لفظ بول رہا تھا اس کے پیچھے اس کا حقیقی ارادہ شامل نہ تھا...وہ محض زبانی آلفاظ تھے نہ کہ کوئی حقیقی فیصلہ...
ایک شخص لوگوں کے سامنے شرافت اور تواضع کی تصویر بنا رہتا ہے مگر جب اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو وہ حسد اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کی شرافت محض ظاہری تھی وہ اس کی روح میں اتری ہوئی نہ تھی..
مولانا وحیدالدین خان...
خدا اور انسان...
صفحہ 42...

Zikr Darood Astaghfar- ZDA

Zikr Darood Astaghfar- ZDA 
  • Short Description
    Invitation towards Love of Allah and Love of Rasullullah ( صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم)
  • Long Description
    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

    Objective of ZDA activity
    Invitation towards the Love of Allah and Love of Rasool Allah (Sallallaho alahi wassalim) and Zikr, Darood o Salam and Astaghfar in free time

    Our current project is related to following topics
    Namaz, Zikr of Allah, Darood o Salam , Repentance, Parents ,Quran Dua,Etiquettes


    ZDA Teams are as follows:

    ZDA Live Dawah Team
    ZDA Daily SMS Team
    ZDA Transport Team
    ZDA Notice board Team
    ZDA Facebook Team
    ZDA Islamic data Team
    ZDA Scientific Research Team
    ZDA Database management Team

    Daily Reminders
    You can get Daily ZDA islamic reminders by sending “ZDA” to 03455282509 (Note:There is no restrictions of reading, forwarding or deleting these sms)


    ZDA Group for brothers
    https://www.facebook.com/groups/192142357638147/

    ZDA Group for sisters
    https://www.facebook.com/groups/1423078284577492/


    Others links
    www.nakcollection.com

Disqus Shortname

designcart